جماعت اسلامی پاکستان
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
جماعت اسلامی پاکستان کے بارے میں عام سوالات کے جوابات
نہیں۔ جماعتِ اسلامی ایک جامع اسلامی تحریک ہے جس کے کام میں دعوت، تربیت، فکری رہنمائی، اصلاحِ معاشرہ، خدمتِ خلق اور پُرامن آئینی سیاست شامل ہیں۔ انتخابی سیاست اس کی جدوجہد کا ایک اہم میدان ضرور ہے، لیکن جماعت کی پوری شناخت اسی تک محدود نہیں۔ جماعت ایسے افراد کی تیاری، اجتماعی قوت کی تنظیم اور عدل، جواب دہ حکمرانی اور اقامتِ دین کے لیے جدوجہد کرتی ہے جو ایمان، کردار اور خدمت کے جذبے سے آراستہ ہوں۔
اقامتِ دین سے مراد دینِ اسلام کی مکمل رہنمائی کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قائم کرنے کی جدوجہد ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْہِ، یعنی “دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔” (الشوریٰ 42:13) اقامتِ دین صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا انفرادی نیکی تک محدود نہیں، بلکہ خاندانی زندگی، معاشرت، تعلیم، معیشت، قانون، سیاست اور اجتماعی اخلاق بھی اس میں شامل ہیں۔ دین کے جس حصے کا تعلق فرد سے ہے، ہر مسلمان کو اسے اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے، اور جس حصے کا قیام اجتماعی کوشش کے بغیر ممکن نہیں، اس کے لیے منظم، پُرامن اور آئینی جدوجہد ضروری ہے۔
نہیں۔ جماعتِ اسلامی کسی ایک فقہی مسلک یا فرقہ وارانہ گروہ کی نمائندہ جماعت نہیں۔ اس کی دعوت قرآن و سنت، اقامتِ دین اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر مبنی ہے۔ جماعت اپنا واضح اسلامی مؤقف رکھتی ہے، لیکن مسلمانوں کے درمیان تعاون اور خیر خواہی کی داعی ہے اور فرقہ وارانہ نفرت، تکفیر، باہمی دشمنی اور تشدد کو مسترد کرتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کی دعوت تمام انسانوں کے لیے ہے، البتہ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کو صحیح طور پر سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کریں۔ جماعت تمام انسانوں کو اللہ کی بندگی، عدل، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی وقار کی دعوت دیتی ہے۔ بالخصوص مسلمانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کے تضاد کو ختم کریں اور صالح قیادت اور منصفانہ اجتماعی نظام کے قیام کے لیے منظم جدوجہد کریں۔
جی ہاں۔ جماعتِ اسلامی اصلاح اور تبدیلی کے لیے پُرامن، جمہوری اور آئینی ذرائع اختیار کرتی ہے۔ اس کا طریقِ کار دعوت، تعلیم، اصلاحِ رائے عامہ، خدمتِ خلق، انتخابات، پارلیمانی جدوجہد، پُرامن عوامی تحرک، قانونی اقدامات اور پالیسی سازی پر مشتمل ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ پائیدار تبدیلی جبر یا غیر آئینی قبضۂ اقتدار کے بجائے عوامی شعور، رضامندی اور منظم جدوجہد سے آتی ہے۔
جماعتِ اسلامی دہشت گردی، سیاسی قتل، مسلح جبر، ہجومی تشدد اور غیر آئینی ذرائع سے تبدیلی کو مسترد کرتی ہے۔ اس کے نزدیک اصلاح اور انقلاب کی جدوجہد قانون، امن اور جمہوری طریقوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ جماعت پُرامن احتجاج، سیاسی تنظیم اور ظلم کے خلاف آئینی مزاحمت کو شہریوں کا حق سمجھتی ہے، بشرطیکہ اس میں قانون، انسانی جان اور اجتماعی ذمہ داری کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔
جماعتِ اسلامی انتخابات میں اس لیے حصہ لیتی ہے کہ قوانین، بجٹ، ٹیکس، تعلیم، فلاح، مقامی حکومت اور ریاستی اداروں کی سمت سیاسی اختیار کے ذریعے متعین ہوتی ہے۔ انتخابات جماعت کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنا متبادل پروگرام عوام کے سامنے پیش کرے، حکمرانوں کا احتساب کرے اور اصلاح کے لیے عوامی اعتماد حاصل کرے۔ جماعت کے نزدیک انتخابات ذمہ دارانہ عوامی جدوجہد کا ایک ذریعہ ہیں، اس کے پورے مشن کا متبادل نہیں۔
جماعت کی دعوت تین بنیادی امور پر مشتمل ہے۔ اوّل یہ کہ انسان بالخصوص مسلمان خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی اختیار کریں۔ دوم یہ کہ اسلام کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان موجود تضاد، منافقت اور دو عملی کو ختم کیا جائے۔ سوم یہ کہ ظلم، بدعنوانی اور نااہل قیادت پر مبنی نظام کو پُرامن اور آئینی جدوجہد کے ذریعے تبدیل کیا جائے اور زمامِ کار دیانت دار، اہل اور صالح قیادت کے سپرد ہو۔ اس جدوجہد میں اصلاحِ فرد، تربیت، تنظیم، خدمتِ خلق، تحقیق، پالیسی سازی، انتخابات اور مسلسل عوامی تحرک شامل ہیں۔
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان کا انتخاب دستورِ جماعت کے مطابق ارکانِ جماعت کی براہِ راست اور خفیہ رائے دہی سے ہوتا ہے۔ اس انتخاب میں باقاعدہ امیدوار بننے یا ذاتی انتخابی مہم چلانے کا طریقہ رائج نہیں۔ مرکزی نظم منتخب امیرِ جماعت، ارکان کی براہِ راست رائے سے منتخب مرکزی مجلسِ شوریٰ، مجلسِ عاملہ اور قیّم جماعت، یعنی سیکرٹری جنرل، پر مشتمل ہوتا ہے۔ امیرِ جماعت مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم کا تقرر کرتا اور شوریٰ کے ارکان میں سے مجلسِ عاملہ نامزد کرتا ہے۔
نہیں۔ جماعتِ اسلامی میں قیادت پر کسی خاندان، نسل یا فرد کا موروثی حق نہیں۔ جماعت کے چھ امرا، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمٰن، مختلف خاندانوں، علاقوں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جماعت میں قیادت خاندانی جانشینی کے بجائے دستوری انتخاب کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
مرکزی مجلسِ شوریٰ جماعت کی بنیادی مشاورتی اور پالیسی ساز مجلس ہے۔ اس کے فرائض میں جماعت کی پالیسی مرتب کرنا، مرکزی بجٹ منظور کرنا، دستورِ جماعت کی تعبیر و ترمیم، تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ، آڈیٹرز کا تقرر اور امیرِ جماعت، قیّم اور مرکزی شعبہ جات کا محاسبہ شامل ہے۔ مجلس مختلف کمیٹیاں، انتخابی کمیشن اور ٹریبونل قائم کر سکتی ہے، قومی و بین الاقوامی مسائل پر قراردادیں منظور کرتی ہے اور دستور میں مقرر طریقۂ کار کے مطابق دو تہائی اکثریت سے عدم اعتماد کے ذریعے امیرِ جماعت کو ذمہ داری سے ہٹا بھی سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کا نظم مرکزی، صوبائی یا علاقائی، ضلعی، تحصیلی اور مقامی سطحوں پر قائم ہوتا ہے۔ جہاں دستور کے مطابق مطلوبہ تعداد میں ارکان موجود ہوں، وہاں مقامی جماعت قائم کی جا سکتی ہے اور اس کی قیادت دستوری طریقۂ کار کے مطابق منتخب ہوتی ہے۔ ضلعی اور بالائی سطحوں پر امرا کی معاونت کے لیے مجالسِ شوریٰ اور قیّم یا سیکرٹری موجود ہوتے ہیں۔ جماعت میں ذمہ داری کا تعین خاندان، دولت، معاشرتی حیثیت یا محض تعلیمی اسناد کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اہلیت، کردار، دیانت، تقویٰ اور جماعت کے نصب العین سے وابستگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
جماعتِ اسلامی 1941ء میں اقامتِ دین کی ایک نظریاتی تحریک کے طور پر قائم ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیمی شاخ نہیں بنی۔ تصورِ پاکستان کے حوالے سے اس کی بنیادی خدمت علمی اور فکری نوعیت کی تھی۔ مولانا مودودی نے متحدہ ہندوستانی قومیت کے تصور پر تنقید کی اور واضح کیا کہ مسلمان محض ایک مذہبی اقلیت نہیں، بلکہ اپنے قانون، تہذیب اور اجتماعی نصب العین رکھنے والی ایک جداگانہ نظریاتی ملت ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد جماعت کے کارکنوں نے پناہ گزینوں کے تحفظ، امداد، بحالی، صفائی، طبی معاونت اور متاثرہ مسلمانوں کی محفوظ منتقلی میں حصہ لیا، بالخصوص دارالاسلام پٹھان کوٹ اور بعد ازاں لاہور میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد جماعتِ اسلامی نے نئی ریاست کو اسلامی دستوری سمت دینے کے لیے منظم “مطالبۂ دستورِ اسلامی” مہم چلائی۔ جماعت کا مؤقف تھا کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے، اقتدار عوام کے ذریعے ایک امانت کے طور پر استعمال ہو اور قانون سازی قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق ہو۔ قراردادِ مقاصد 12 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی نے منظور کی۔ جماعت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ یہ کامیابی صرف اسی کی کوشش سے حاصل ہوئی، تاہم اس کی منظم دستوری مہم اس مطالبے کی نمایاں ترین قوتوں میں شامل تھی۔ بعد ازاں مولانا مودودی نے اکتیس جید علما کے متفقہ بائیس دستوری نکات کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
فوجی حکومتوں کے ساتھ جماعت کے تاریخی تعلق کو اس کے مخصوص سیاسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ جماعت نے جنرل ایوب خان کی آمریت کی مخالفت کی، پابندیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کیا اور 1965ء کے صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ بعد ازاں جماعت جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت اور دستوری مداخلتوں کی نمایاں مخالف رہی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں جماعت پاکستان قومی اتحاد کی دیگر جماعتوں کے ساتھ محدود مدت کے لیے عبوری کابینہ میں شامل ہوئی، جس کا مقصد انتخابات اور بعض اصلاحات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہونے پر جماعت کے وزرا تقریباً نو ماہ بعد مستعفی ہو گئے۔ اس محدود شرکت کو فوجی حکومت کی مستقل یا غیر مشروط حمایت قرار دینا درست نہیں۔
جماعتِ اسلامی نے بڑے قومی بحرانوں میں عموماً قومی یکجہتی، دفاعِ وطن، آئینی نظم، عوامی جدوجہد اور خدمتِ خلق کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگوں اور سلامتی کے بحرانوں میں جماعت نے پاکستان کے دفاع کی حمایت کی، جبکہ انصاف، جمہوری ذمہ داری اور عوامی فلاح کے تقاضوں کو بھی اجاگر کیا۔ جماعت کے کارکنوں اور اس سے وابستہ فلاحی اداروں نے مہاجرین کے بحران، زلزلوں، سیلابوں، نقل مکانی اور کورونا وبا کے دوران امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ جماعت نے مزدوروں، کسانوں، خواتین، طلبہ، اقلیتوں، لاپتا افراد اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی۔ حق دو گوادر اور حق دو کراچی جیسی تحریکیں علاقائی مسائل کو پُرامن، منظم اور آئینی جدوجہد سے جوڑنے کی مثالیں ہیں۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور روہنگیا مسلمانوں کے مسائل پر جماعت متاثرہ آبادیوں کے حقوق اور انسانی امداد کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہے۔
جماعت سے وابستگی کے خواہش مند افراد جماعت میں شمولیت کا فارم پُر کر سکتے ہیں۔ متعلقہ مقامی یا علاقائی نظم درخواست گزار سے رابطہ کرے گا، جماعت کے نصب العین اور تنظیمی طریقۂ کار کی وضاحت کرے گا اور مناسب درجۂ وابستگی کی طرف رہنمائی فراہم کرے گا۔ صرف فارم جمع کرانے سے رسمی رکنیت مکمل نہیں ہوتی۔
جی ہاں۔ کوئی بھی شخص رسمی رکنیت کے بغیر سماجی، تعلیمی، پیشہ ورانہ، ڈیجیٹل، امدادی یا کمیونٹی منصوبوں کے لیے رضاکارانہ خدمات پیش کر سکتا ہے۔ رضاکاروں کو منصوبے کی نوعیت، ان کی مہارت اور متعلقہ تنظیمی ضوابط کے مطابق ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔
جی ہاں۔ مصنفین، محققین، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، ڈیزائنرز، ڈویلپرز، سائبر سکیورٹی ماہرین، ڈیٹا تجزیہ کار اور دیگر پیشہ ور افراد موزوں منصوبوں کے لیے اپنی مہارت پیش کر سکتے ہیں۔ پیشہ ورانہ تعاون سے خود بخود جماعت کی رکنیت یا اس کی نمائندگی کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
جی ہاں۔ غیر سرکاری تنظیمیں، جامعات، تحقیقی ادارے، تھنک ٹینکس، پیشہ ورانہ انجمنیں، کاروباری ادارے اور کمیونٹی تنظیمیں تعلیم، تحقیق، نوجوانوں کی ترقی، ٹیکنالوجی، عوامی فلاح، پالیسی مکالمے اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں اشتراک کی تجویز پیش کر سکتی ہیں۔ ہر تجویز کی منظوری سے پہلے اس کے قانونی، اخلاقی، تنظیمی اور ساکھ سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن جماعتِ اسلامی کی منظم فلاحی اور انسانی خدمت کی روایت سے وجود میں آنے والا ادارہ ہے۔ یہ اپنے انتظامی ڈھانچے، پالیسیوں، پروگراموں اور طریقۂ کار کے اعتبار سے ایک خود مختار فلاحی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ جماعت کے بہت سے کارکن الخدمت کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم الخدمت کی امداد اور فلاحی خدمات سیاسی یا تنظیمی وابستگی کے بغیر انسانی ضرورت کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہیں۔
زکوٰۃ اور امدادی عطیات ان کے مقصد کے مطابق جماعتِ اسلامی یا الخدمت کے باقاعدہ اور منظور شدہ ذرائع سے جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ عطیہ دینے والے کو یہ اطمینان کرنا چاہیے کہ متعلقہ فنڈ زکوٰۃ، عام صدقات، ہنگامی امداد یا کسی مخصوص منصوبے کے لیے مختص ہے۔ ارکانِ جماعت اپنے مقررہ مالی واجبات دستورِ جماعت اور متعلقہ تنظیمی ضوابط کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ عام افراد کو صرف تصدیق شدہ بینک اکاؤنٹس، ادائیگی کے سرکاری پورٹلز اور باضابطہ طور پر اعلان کردہ ذرائع استعمال کرنے چاہییں۔
جماعت کے عوامی منصوبوں کی معاونت انفرادی مالی تعاون، رضاکارانہ خدمت، پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی شراکت، تحقیقی تعاون، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور قانونی ذرائع سے وسائل جمع کرنے کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ ہر منصوبے کے ساتھ ذمہ دار شعبہ، مقصد، مالی ذریعہ اور جواب دہی کا طریقۂ کار واضح ہونا چاہیے۔ مالی یا پیشہ ورانہ تعاون کسی فرد یا ادارے کو جماعت کی پالیسی پر اثرانداز ہونے یا اس کے دستوری و ادارتی ضوابط سے استثنا حاصل کرنے کا حق نہیں دیتا۔