اسلامی تحریکیں صرف مسلمانوں نہیں، پوری انسانیت کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں،سرمایہ دارانہ نظام دولت چند ہاتھوں میں جمع کرنے کا ذریعہ بن چکا، حافظ نعیم الرحمٰن
خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے مسائل پر واضح پالیسی ناگزیر ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا انقرہ میں انٹرویو

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی تحریکوں کو روایتی نظریاتی مباحث اور سیاسی جدوجہد سے آگے بڑھ کر پوری انسانیت کے مسائل کے حل کے لیے جامع ایجنڈا اپنانا ہوگا۔ اسلامی تحریکیں صرف مسلمانوں کے حقوق تک محدود نہ رہیں بلکہ تمام مذاہب اور نظریات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے ساتھ مل کر معاشی انصاف، انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور سماجی بہبود کے لیے کام کریں۔
ترکیہ کے شہر انقرہ میں مسلم نیٹ ورک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیا ہے، جبکہ سوشلزم بھی معاشرے کو دیرپا معاشی انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اسلام ایک ایسا معاشی نظام پیش کرتا ہے جس میں دولت کی منصفانہ تقسیم، سماجی تحفظ اور تمام طبقات کے لیے یکساں مواقع موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ زکوٰۃ کا مؤثر نظام، منصفانہ ٹیکس اور کوآپریٹو ملکیت کے تصورات غربت کے خاتمے اور معاشی ناہمواری کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے محض مالی امداد کافی نہیں بلکہ لوگوں کو روزگار، پیداواری وسائل اور معاشی خودمختاری فراہم کرنا ضروری ہے۔ بلاسود مالیاتی نظام بھی اس مقصد کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
زرعی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاگیردارانہ ملکیت اور کارپوریٹ فارمنگ کے ایسے ماڈلز سے کسانوں کے استحصال کا خدشہ ہے جن میں زمین اور پیداوار کے وسائل چند بڑے مالکان یا کمپنیوں کے ہاتھ میں ہوں۔ اس کے بجائے زمین دار، کسان، ریاست اور زرعی پیداوار کی تقسیم سے وابستہ فریقوں پر مشتمل کوآپریٹو نظام متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ تمام متعلقہ طبقات کو پیداوار اور منافع میں حصہ مل سکے۔
انہوں نے جمہوریت کے عالمی نظام میں موجود تضادات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جبکہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو بھی کئی مغربی ممالک میں پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر، الجزائر اور فلسطین سمیت مختلف خطوں میں اسلامی سیاسی تحریکوں کو انتخابی کامیابی کے باوجود اقتدار کے حق سے محروم کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندیوں، دفاتر کی بندش اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ان اقدامات کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔
ترکیہ کے سیاسی تجربے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وہاں کی حکمران جماعت کی تنظیمی صلاحیت، ادارہ سازی اور عوام سے رابطے کو قابلِ تحسین قرار دیا، تاہم کہا کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک ترکیہ کے سیاسی ماڈل کو من و عن اپنا نہیں سکتا کیونکہ ہر ملک کے اپنے تاریخی اور سیاسی حالات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تحریکوں کو دنیا بھر میں کوئی الگ اور محدود اتحاد بنانے کے بجائے مختلف مذاہب اور نظریات سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور افراد کے ساتھ مل کر معاشی استحصال، سامراجیت، کارپوریٹ بالادستی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ اسلامی نظام کا مقصد مسلمانوں کی غیر مسلموں پر حکمرانی نہیں بلکہ ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا ہے جو مذہب اور عقیدے سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور انتہاپسندی کے اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی زیر بحث لانا ضروری ہے۔مستقبل کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خواتین کے حقوق، نوجوان نسل کے مسائل، اقلیتوں کا تحفظ اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی اسلامی تحریکوں کی ترجیحات میں شامل ہونے چاہییں۔ خواتین کو مساوی اجرت، ہراسانی سے تحفظ، عزت و وقار اور معاشی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تحریکوں کو جنریشن زی اور جنریشن الفا کے رجحانات، مسائل اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں کو سمجھنا ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت، کرپٹو کرنسی اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات پر بھی سنجیدہ تحقیق اور واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر اسلامی تحریکیں جدید دور کے مسائل کا قابلِ عمل اور قابلِ اعتماد حل پیش کریں تو دنیا کے مختلف طبقات فطری طور پر ان کے قریب آئیں گے۔