حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھائی تو پہیہ جام ، ٹرین مارچ ہوگا، مریم نواز کا صوبائی تعصب پر مبنی بیان ان کے والد نواز شریف کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ، امیر جماعت اسلامی

امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت سے کل مذاکرات کا آغاز ہوگا، عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدگی نظر نہ آئی تو جماعت اسلامی دھرنوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گی، پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور عوامی بیداری کے لیے ٹرین مارچ کا آپشن (Option) بھی موجود ہے۔ مریم نواز کا صوبائی تعصب پر مبنی بیان ان کے والد نواز شریف کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ، پی پی ، ن لیگ جو مرضی کرلیں قوم کو بے وقوف نہیں بناسکتیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
لاہور دھرنا سے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی اور امیر لاہور ضیا الدین انصاری نے بھی خطاب کیا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری شیخ عثمان فاروق، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، سیکرٹری لاہور اظہر بلال اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قائم مقام سیکرٹری خواتین ثمینہ سعید کی قیادت میں خواتین کی بڑی تعداد بھی دھرنا میں شریک تھیں۔
لاہور ، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں کو اتوار کو بائیس روز ہوچکے ہیں۔ حیدرآباد، سکھر ، اندرون سندھ ، چترال اور دیگر مقامات پر بھی پٹرولیم لیوی اور مہنگی بجلی کے خلاف جماعت اسلامی کے مظاہرے جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مریم نواز کی مسلط کی گئی حکومت نے تعلیم کو تباہ کردیا، گیارہ ہزار سکولوں کو بیچ دیا گیا اب مزید پچیس ہزار فروخت کیے جارہے ہیں ، صوبہ میں اساتذہ، ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہے ، ن لیگ نے پنجاب کی زراعت کو تباہ کردیا ، چھوٹا کسان رُل گیا ، زراعت کی شرح نمو ساڑھے چھ فیصد سے اعشاریہ دو فیصد پر آگئی ، بنیادی مراکز صحت کو فروخت کیا جارہا ہے ، حکمرانوں نے شوگر ملز مافیا کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی ، کسانوں سے سستا گنا اور سستی گندم خرید کر حکمران اور مافیاز مل کر اربوں کما رہے ہیں، یہ ظلم کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ جماعت اسلامی کے کارکنان مبارکباد کےمستحق ہیں کہ ان کے احتجاج سے عوام کا شعور بیدار ہورہا ہے ، ہم نے آئی پی پیز مافیا کے ظلم کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا اور بجلی سستی کرائی ،حکمرانوں کو پٹرولیم لیوی کو ختم کرنا پڑے گا ، حکمرانوں نے مذاکرات میں ٹال مٹول کی تو احتجاج کا سلسلہ وسیع ہوتا جائے گا، جماعت اسلامی کسی ذاتی مفاد کے لیے عوام کے حقوق کے لیے ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک طرف شریف خاندان پنجاب میں پنجابی کارڈ کھیلنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف پی پی سندھو دیش کے نام پر سندھیوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے، پی پی نے ہردور میں جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا، سندھ کے عوام پی پی سے نفرت کرتے ہیں، زرداری خاندان کو سندھ کے جغرافیہ سے کوئی غرض نہیں ، ان کا سب کچھ بیرون ملک ہے ، ملک پر مسلط وڈیرے اور جاگیردار وسائل پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، پی پی نے ہارنے کے باوجود مقتدرہ کی مدد سے کراچی کی میئر شپ پر قبضہ کرلیا، خاندانوں پر مشتمل پارٹیوں کو ملک پر مسلط کرنے والوں کو سوچنا پڑے گا کہ کب تک جمہور کی آواز کو دبا کر ئہ سلسلہ چلاتے رہیں گے۔ جماعت اسلامی عوام کے حق رائے دہی کا احترام چاہتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمہ اور معیشت میں بہتری کے لیے جماعت اسلامی نے تجاویز کو حتمی شکل دے دی ہے جو کل حکومتی ٹیم کو اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران شیئر (Share) کردی جائیں گے ، یہ قابل عمل تجاویز ہیں ، ان پر عمل درآمد نہ ہو تو یہی پرپوزل (Proposal) عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی ، حکومت کو مسلسل جدوجہد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں گے ، مطالبات نہ مانے گئے تو حکومت گراؤ تحریک کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔