ہمارا تعارف
ارکان جماعت کی دعوت اور مولانا کے لٹریچر کی پھیلاؤ کے ذریعے خواتین بھی اس تحریک کی دعوت سے متاثر ہوتی گئیں، چراغ سے چراغ چلتا گیا یہاں تک کہ 15 فروری 1948 کو اچھرا لاہور میں ڈیڑھ سو نمائندہ خواتین کا اجتماع منعقد ہوا جس میں مرکزی مجلس شوری ٰکے فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی حلقہ خواتین کا قیام عمل میں لایا گیا اور امیر جماعت سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے رکن جماعت محترمہ حمیدہ بیگم کو حلقہ خواتین کی پہلی قیمہ مقرر کیا۔ اجتماع میں موجود خواتین نے مولانا مودودی ؒ کی اس ہدایت کو حرزِ جاں بنا لیا کہ" اگر دین قبول ہے تو سچے دل سے اس کی پیروی کرو ۔ادھورے نہیں بلکہ پورے دین کو اپناؤ، اپنی گودوں اور گھروں کو مسلمان بناؤ تاکہ ان میں ایک مسلمان نسل پروان چڑھ سکے" اس دن سے لے کر آج کے دن تک حلقہ خواتین اللہ کے دین کی دعوت اللہ کی بندیوں تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں، نسل در نسل ہدایت کا سفر جاری ہے، دعوتِ حق کی اس روا ںکشتی کا ہر کوئی حسبِ توفیق چپو چلا کر اگلےکے حوالے کردیتا ہے۔ آپا حمیدہ بیگم سے لے کر ڈاکٹر حمیرہ طارق تک قیادت نے کارکن خواتین کو اپنے جلومیں لے کر پاکستان کے چپے چپے پر حق کی شمعوں کو جلایا۔شہر ہوں یا دیہات، تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا ناخواندہ ،گھریلو خواتین ہوں یا ورکنگ وومن، ایوان سیاست ہو یا خدمت خلق کا وسیع میدان حلقہ خواتین کی کارکن بہنیں حیا کی پوری پاسداری کے ساتھ ہر جگہ فریضہ اقامت دین کی ادائیگی میں مصروف عمل نظر آتی ہیں۔